ایک بزرگ کسی شہد بیچنے والے کے قریب سے گزرے . انھوں
نے دیکھا کۂ شہد کے برتن پر بے شمار مکھیاں بیٹھی هیں . وه
بزرگ وهیں کھڑے هو کر برتن کو دیکھنے لگے .
جب شہد پر حد سے زیادہ مکھیاں بیٹھ گئیں تو دکاندار نے حسب
معمول مکھیاں اڑانے کیلئے هاتھ والا پنکھا هلایا .
جو مکھیاں برتن کے کناروں پر بیٹھی تھیں وه تو فورا اڑ گئیں .
لیکن جو حریص مکھیاں شہد کے اوپر بیٹھی تھیں وه پھنس کر ره
گئیں
وه بزرگ یه منظر دیکھ کر بےھوش هو گئے . جب هوش میں آئے
تو
لوگوں نے بے هوشی کی وجه پوچھی .
وه فرمانے لگے
شہد کی مثال دنیا
جیسی هے . مکھیاں ، انسان هیں اور پنکھا ملک الموت هے .
جو لوگ قناعت اختیار کریں گے وه موت اور موت کے بعد کی
تلخیوں سے نجات پا جائیں گے . لیکن جو لوگ لالچی اور حریص
طبیعت کے مالک هوں گے اور دن رات دنیا میں مشغول رهیں گے
وه موت کے بعد انھی حریص مکھیوں کی طرح پھنس کر ره
جائیں__
0 comments :
Post a Comment