ADMEN S.U.F.PK
علیؑ شاہِ مَرداں اِماماً کبیراً
کہ بعد از نبیﷺ شُد بشیراً نذیراً
حضرت مولانا عبد الرحمٰن جامیؒ (رحمت اللہ علیہ)
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
آپ کا نام نامی ”علی بن ابی طالب ،بن عبد المطلب، بن ہاشم بن عبد مناف ہے “ اور
کنیت ”ابوالحسنین و ابو تراب ہے،طالب کے صاحبزادے ہیں یعنی حضور صلی اللہ
علیہ وسلم کے چچازاد بھائی ہیں،آپ کی والدہ محترمہ کا اسم گرامی فاطمہ بنت اسد
ہاشمی ہے اور وہ پہلی ہاشمی خاتون ہیں جنہوں نے اسلام قبول کیا اور ہجرت
فرمائی۔(تاریخ الخلفاءص113)
مورخین کے مطابق حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی پیدائش13رجب المرجب سنِ عا م
الفیل لغایت10ءیعنی حضور کی نبوت سے13سال پہلےاور ہجرت سے 23سال
پہلےہوئی
حضرت علی مرتضیٰ کرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم کی ذات وہ ذات گرامی ہے جو بہت
سے کمال و خوبیوںکی جامع ہے کہ آپ شیر خدا بھی ہیں اور داماد مصطفےٰ صلی
اللہ علیہ وسلم بھی ،حیدر کرار بھی ہیں اور صاحب ذوالفقار بھی ،حضرت فاطمہ
زاہرہ کے شوہر نامدار بھی اور حسنین کریمین کے والد بزرگو ار بھی ،صاحب
سخاوت بھی اور صاحب شجاعت بھی ،عبادت و ریاضت والے بھی اور فصاحت و
بلاغت والے بھی ،علم والے بھی اور حلم والے بھی ،فاتح خیبر بھی اور میدان
خطابت کے شہسوار بھی،غرضیکہ آپ بہت سے کمال و خوبیوں کے جامع ہیں اور
ہر ایک میں ممتاز ویگانہ روزگار ہیں اسی لئے دنیا آپ کو مظہر العجائب والغرائب
سے یاد کرتی ہے اور قیامت تک اسطرح یاد کرتی رہے گی۔
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم ا ایک روز صبح
کے وقت باہر تشریف لے گئے۔ آپ کے اوپر سیاہ اُون سے بُنی ہوئی چادر تھی ۔
حضرت حسن ص آئے توآپ نے اُنہیں اس چادر میں داخل کرلیا ۔پھر حضرت حسین
آئے تواُنہیں بھی اس چادر میں داخل کرلیا،پھرحضرت فاطمہ رضی اﷲ عنہا آئیں تو
انہیں بھی داخل کرلیا ،پھر حضرت حضرت علي آئے توآپ نے اُنہیں بھی اس چادر
میں لے لیا۔پھرفرمایا،''بے شک اﷲ یہ چاہتا ہے کہ اے گھر والو! کہ تم سے گندگی
دور کردے اور تمہیں خوب پاک صاف کردے''۔
(صحیح مسلم، مصنف ابن ابی شیبہ، المستدرک للحاکم)
یہ خود شھید ھیں بیٹے ،نواسے ،پوتے شھید علی رضی اللہ عنہ کی شان یگانہ
حضور ﷺ جانتے ھیں
محدثین فرماتے ہیں کہ جتنی احادیث حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کی فضیلت
میں وارد ہیں، کسی اور کی فضیلت میں نہیں آئیں۔
آپ سے نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کی ایک سو چھیاسی احادیث مروی
ہیں۔ آپ سے پوچھا گیا، کیا سبب ہے کہ آپ زیادہ احادیث روایت کرتے ہیں؟ فرمایا،
اس کا سبب یہ ہے کہ جب کبھی میں حضور صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم سے کچھ
دریافت کرتا تو آپ مجھے خوب اچھی طرح سمجھایا کرتے اور جب میں خود سے
کچھ نہیں پوچھتا تو آپ خود ہی بتایا کرتے تھے۔
آپ تمام غزوات میں سوائے غزوہ تبوک کے نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم
کے ساتھ رہے اور شجاعت وبہادری کے خوب جوہر دکھائے۔ غزوہ تبوک میں آقا
ومولیٰ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے آپ کو اپنا نائب بنا کر مدینہ منورہ میں چھوڑ دیا تھا۔
حضرت علی کا رسولﷺ کے لعاب دہن سے درد سے نجات پانا ہم
سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا کہا ہم سے یعقوب بن عبدالرحمن نے انہوں نے ابو
حازم سے کہا مجھ کو سہل بن سعد نے خبر دی کہ آنحضرت ﷺ نے
خیبر کے دن یوں فرمایا میں کل ایسے شخص کو جھنڈا دوں گا جس کے ہاتھ پر اللہ
فتح کرا دے گا۔ وہ اللہ اور رسول سے محبت رکھتا ہے اور اللہ اور رسول اس سے
محبت رکھتے ہیں۔ آپﷺ کا یہ فرمانا سن کر لوگ رات بھر کھسر
پھسر کرتے رہے کہ دیکھئے جھنڈا کس کو ملتا ہے۔ صبح ہوتے ہی سب لوگ ّ
آنحضرت ﷺ کے پاس آئے۔ ہر ایک کو امید تھی شائد جھنڈا مجھ کو
ملے۔ آپﷺ نے پوچھا کہ علی ابن ابی طالب کہاں ہیں؟ لوگوں نے
عرض کیا یا رسول اللہ ان کی تو آنکھیں دکھ رہی ہیں۔ آپﷺ نے
فرمایا ان کو بلا بھیجو۔ لوگ ان کو لے آئے۔ آنحضرتﷺ نے ان کی
آنکھوں پر اپنا لعابِ دہن لگا دیا اور ان کے لئے دعا کی۔ پھر وہ تو ایسے تندردست
ہوئے جیسے کوئی شکوہ ہی نہ تھا۔ صحیح بخاری، کتاب المغازی، ترجمہ از مولانا
وحید الزمان خان
جنگِ خیبر میں آپ نے اپنی پشت پر خیبر کا دروازہ اٹھا لیا اور مسلمان اس دروازے
پر چڑھ کر قلعہ کے اندر داخل ہو گئے، بعد ازاں آپ نے وہ دروازہ پھینک دیا۔ فتح
کے بعد جب اس دروازے کو گھسیٹ کر دوسری جگہ ڈالا جانے لگا تو چالیس افراد
نے مل کر اسے اٹھایاتھا۔ جنگ خیبر ہی کے موقع پر آپ نے یہ شعر پڑھا جو بہت
مشہور ہوا،
اَنَا الَّذِیْ سَمَّتْنِیْ اُمِّیْ حَیْدَرَہ،
کَلَیْثٍ غَابَاتٍ کَرِیْہِ الْمَنْظَرَہ،
''میں وہ شخص ہوں کہ میری ماں نے میرا نام ''شیر'' رکھا ہے،
میری صورت جنگل میں رہنے والے شیر کی طرح خوفناک ہے''۔
کسی نے امیر المومنین حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے دریافت کیا
کہ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ قبرستان میں کیوں بہت دیر دیر تک ٹھہرے رہتے ہیں؟
تو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ میں قبر والوں کو بہترین پڑوسی پاتا ہوں۔
میں قبر والوں کو سچا پڑوسی جانتا ہوں کیونکہ وہ زبانوں کو ہمیشہ (بدگوئی اور
بدکلامی سے) روکے رہتے ہیں اور آخرت کا ذکر کرتے رہتے ہیں اور رسول اللہ
عزوجل وصلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ میں نے کبھی ایسا خوفناک
منظر نہیں دیکھا جو قبر سے بڑھ کر خوفناک ہو۔(1)
(احیاء العلوم للغزالی ج۴ص۴۱۲)
جب عبدالرحمن بن ملجم خارجی نے آ پ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے سر مبارک پر
تلوار ماری اور آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی مقدس پیشانی اور چہره انور پر شدید
زخم لگا تو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی زبان مبارک سے یہ الفاظ اداہوئے کہ فُزْتُ
بِربِّ الکعبۃ کعبہ کے رب کی قسم !میں تو کامیاب ہوگیا۔
حضرت محمدبن علی رضی اللہ تعالیٰ عنہماکابیان ہے کہ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے
اپنے صاحبزادوں کو جمع کرکے کچھ وصیتیں فرمائیں۔ پھر اس کے بعد لا الٰہ الا اللہ
محمد رسول اللہ کے سوا کوئی دوسرا لفظ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی زبان مبارک
سے نہیں نکلا اور کلمہ پڑھتے ہوئے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی روح اقدس عالمِ
قدس کو روانہ ہوگئی۔ (اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیہِ رَاجِعُون)(2)
بوقتِ شہادت آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی عمر شریف ترسٹھ سال کی تھی۔ آپ رضی
اللہ تعالیٰ عنہ کے صاحبزادگان نے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو غسل دیا اور بڑے
صاحبزادہ حضرت امام حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی
نماز جنازہ پڑھائی۔۱۷ رمضان ۴۰ھ جمعہ کی رات میں آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ
زخمی ہوئے اور دو دن زندہ رہ کر جامِ شہادت سے سیراب ہوگئے اور بعض کتابوں
میں لکھا ہے کہ ۱۹ رمضان شب یک شنبہ (اتوار)میں آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی
وفات ہوئی۔(1) واللہ تعالی اعلم
(اکمال فی اسماء الرجال ص۶۰۳واحیاء العلوم ج۴ص۴۰۷وتاریخ الخلفاء وغیرہ)
کیس ۲١ رمضان المبارک حضرت علی ع کا یومِ شہادت
~دو بار نماز شہید ہوئی ایک مسجد میں ایک مقتل میں
قرآن لہو میں تر دیکھا ایک کوفے میں ایک کربل میں
0 comments :
Post a Comment